آج کے دور میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی اہمیت کس قدر ہے، اس سے ہر عام و خاص واقف ہے۔ یہ ایسا سورس ہے، جس نے پوری دنیا کو سمیٹ کر ایک چھوٹے گاؤں میں منتقل کردیا ہے۔ جہاں مواصلاتی سہولیات کا عالم یہ ہے کہ ہم ایک ملک سے بیٹھ کر دوسرے ممالک والوں سے اس طور پر تعلق استوار کرسکتے ہیں، جیسے کسی گاؤں کے رہنے والے باہم مربوط ہو کر حق جوار ادا کرتے ہیں۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہوچکے ہیں جہاں پرانے زمانے کی بہ نسبت تہذیبی و تمدنی اقدار بہت مختلف ہوچکے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وسائل و ذرائع کے معیارات بھی تبدیل ہوگئے ہیں۔ گویا ہر شے اپنی جدت اور جاذبیت میں خوب ترقی کرچکی ہے اور روز بہ روز ترقیاتی راہیں کھل رہی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اس زاویے سے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس نے جہاں اقوام عالم کے ہر شعبے میں اثر ڈالا ہے، وہیں ذرائع ابلاغ کے زاویے اور نہج کو بہت بدل دیا ہے۔ مقتضائے زمانہ سے ہم آہنگ ہوکر فروغ علم کے لیے کوشاں ہونا ایک اہم ضرورت تھی۔ جس کا احساس ہماری ٹیم کو ہوا۔ چناں چہ "القرطاس" ہمارے اسی احساس کی تکمیل ہے۔ فروغ علم اور افادہ عام کے جذبے کے تحت یہ ویب پورٹل ڈیزائن کی گئی ہے، جس میں علمی، ادبی اور تحقیقی مواد کی دستیابی اور مطالعاتی ذوق کی افزائش کے لیے مواقع بہم کرنا بنیادی مقاصد میں شامل ہیں۔ اس میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ مستقبل کے لیے بہت سے عزائم ہیں، جن کی تکمیل کے لیے کاوشیں جاری ہیں
القرطاس کو منفرد بنانے والی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں: 🔍 اسمارٹ سرچ سسٹم صرف چند الفاظ لکھ کر: مصنف کتاب یا کتاب کے اندر موجود کسی خاص عبارت کو چند ہی سیکنڈز میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ 🤖 مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی تحقیقی سہولت آپ سوال کیجیے، اور نظام آپ کو دلائل اور مستند حوالہ جات کے ساتھ تحقیقی جواب فراہم کرے گا۔ 📚 اہلِ سنت کا ایک مرکزی، منظم اور جدید ڈیجیٹل علمی پلیٹ فارم
"القرطاس" کی مجلس ادارت چھ افراد پر مشتمل ہے۔ جو خالص دینی جذبے اور خدمتِ دین کے عزم کے ساتھ علمی و تحقیقی میدان میں اپنا حصہ پیش کر رہے ہیں۔ مجلس کی رہنمائی معروف صاحب قلم حضرت مولانا مفتی ثاقب قمری مصباحی ازہری (دامت برکاتہم) فرما رہے ہیں، جن کی بصیرت افروز قیادت میں یہ قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ پورے نظام کی تشکیل و تنظیم اور مجموعی نگرانی کا اہم فریضہ محترم صدام حسین چِشتی انجام دے رہے ہیں، جو اس کام کو اخلاص، دیانت اور حسنِ ترتیب کے ساتھ آگے بڑھانے میں کوشاں ہیں۔ اسی طرح حضرت مفتی غلام عبد القادر تیغی مصباحی ازہری، مولانا نشاط اختر رومی مصباحی، مفتی عبد السبحان بزمی مصباحی اور مولانا نعمان اظہر سنبھلی مصباحی مواد کی جانچ، تصحیح اور اشاعت کی ذمہ داریاں نہایت محنت اور ذمہ داری کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔ تاکہ اہلِ علم اور عام قارئین تک مستند، صحیح اور معیاری دینی مواد پہنچ سکیں۔ ہم اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ وہ اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اسے ذریعۂ ہدایت بنائے اور ہم سب کو اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
القرطاس میں کتب کو مختلف علمی اور تحقیقی موضوعات کے تحت منظم کیا گیا ہے تاکہ قارئین اور محققین کو مطلوبہ کتاب تک آسان اور فوری رسائی حاصل ہو۔ ہر موضوع کے تحت منتخب اور مستند کتب شامل کی گئی ہیں جو مطالعہ اور تحقیق دونوں کے لیے مفید ہیں۔
انسان کی فکری تاریخ کا وہ گہرا اور سنجیدہ شعبہ ہے جو وجود، علم، سچائی، اخلاق اور کائنات کے بنیادی سوالات پر غور کرتا ہے۔ فلسفہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم چیزوں کو صرف مان نہ لیں بلکہ ان پر سوچیں، سوال اٹ
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا آخری اور محفوظ کلام ہے۔ یہ انسانیت کے لیے ہدایت، نور اور راہِ نجات ہے۔ قرآن زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کی تلاوت دلوں کو سکون عطا کرتی ہے۔
تفسیر قرآنِ مجید کی آیات کی وضاحت اور تشریح ہے۔ یہ آیات کے معانی اور پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ تفسیر کے ذریعے قرآن کا پیغام واضح ہوتا ہے۔ یہ علم فہمِ دین کو مضبوط بناتا ہے
حدیث رسول اللہ ﷺ کے اقوال، افعال اور ارشادات کا مجموعہ ہے۔ یہ قرآن کے بعد اسلامی شریعت کا اہم ماخذ ہے۔ حدیث ہمیں عملی زندگی کا درست طریقہ سکھاتی ہے۔ اس پر عمل میں کامیابی اور بھلائی ہے۔
ادب زبان اور خیال کی خوبصورتی کا نام ہے۔ یہ انسان کے احساسات اور تجربات کی عکاسی کرتا ہے۔ ادب معاشرے کی فکری تربیت کرتا ہے۔ یہ سوچ اور کردار کو نکھارتا ہے۔
نعت رسولِ اکرم ﷺ کی مدح و ثنا پر مبنی کلام ہے۔ یہ محبتِ رسول ﷺ کا خوبصورت اظہار ہے۔ نعت دلوں میں عقیدت اور ادب پیدا کرتی ہے۔ اسے پڑھ کر روح کو تازگی ملتی ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ حضور اکرم ﷺ کی زندگی کا مکمل نمونہ ہے۔ یہ ہمیں بہترین طرزِ زندگی سکھاتی ہے۔ سیرت صبر، عدل اور رحم کی عملی مثال ہے۔ اس پر عمل کر کے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
اخلاق اچھے کردار اور حسنِ سلوک کا نام ہے۔ اسلام اخلاق کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اچھے اخلاق انسان کو محبوب بناتے ہیں۔ یہ معاشرے میں امن اور بھائی چارہ قائم کرتے ہیں۔
فلسفہ غور و فکر اور عقل کے استعمال کا علم ہے۔ یہ کائنات اور زندگی کے حقائق پر سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسلامی فلسفہ ایمان اور عقل میں توازن پیدا کرتا ہے۔ یہ انسان کو شعور اور بصیرت عطا کرتا ہے۔