اردو انشا پردازی کے اصول و آداب کا خاکہ
1. لفظ کی تعریف اور اس کی قسمیں
2. اسم ، فعل اور حرف کی تعریف
3. مفرد اور مرکب
4. مضاف و مضاف الیہ اور موصوف صفت
5. ترکیبِ مقلوبی
6. جملہ کا بیان
7. مرکبِ اشاری
8. واحد و جمع کا بیان
9. فعل ، فاعل اور مفعول
10. فعل کی قسمیں
11. اسمائے مشتقات
12. مؤکد تاکید
13. ذوالحال اور حال کا بیان
14. حروفِ جارہ
15. ندا ، منادیٰ کا بیان
16. اسمِ موصول اور صلہ
17. مبدل منہ اور بدل
18. شرط و جزا کا بیان
19. غلط العام اور غلط العوام کا فرق۔
20. دبستان دہلی و لکھنؤ کا املائی فرق۔ (کتاب پڑھنی / پڑھنا ہے۔) پہلا دہلوی اور دوسرا لکھنوی ہے۔
21. واو عطف کا استعمال ( دونوں لفظ یا تو واحد ہو یا جمع ۔ ایک واحد اور دوسرا جمع درست نہیں۔ اسی طرح دونوں الفاظ یا تو فارسی کے ہوں یا عربی کے یا ایک عربی کا اور دوسرا فارسی کا۔ فارسی یا عربی لفظ کا عطف ہندی یا سنسکرت لفظ پر عطف کرنا درست نہیں۔
22. امالہ کا قاعدہ
23. نا، نہ اور ناں کا فرق۔
24. کہ اور کے میں فرق۔
25. حشو کا بیان۔ (قبیح و ملیح)
26. محاورہ، روز مرہ اور ضرب الامثال کا بیان
27. فعل متعدی میں فعل اپنے مفعول کے تابع ہوتا ہے۔ یعنی اگر مفعول واحد ہے تو فعل بھی واحد لایا جائے گا اور اگر مفعول جمع ہے تو فعل بھی جمع لایا جائے گا۔ اسی طرح مفعول مذکر ہے تو فعل بھی مذکراور مفعول مؤنث ہے تو فعل بھی مؤنث لایا جائے گا۔
28. رموزِ اوقاف کا بیان
29. متروکات
30. واحد و جمع کا بیان (ضروری نوٹ: اگر کسی لفظ کے آخر میں الف یا ہائے مختفی نہ ہو تو اسے فعلِ جمع کے ہمراہ واحد استعمال کرنا درست ہے۔ کل سڑک پر کئی جانور ٹہل رہے تھے۔)